نئی دہلی ،19؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس نے منگل کو رافیل طیارے سودے میں ’طریقہ کار کی خلاف ورزی‘ کرنے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع نرملا سیتا رمن پر نشانہ لگایا۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے سوال کیا کہ آخر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی)سے بچ کر سرکار کیا چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟.انٹونی نے ہندوستان ایئروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت پر سوال اٹھانے سے متعلق سیتا رمن کے مبینہ بیان کا ذکر کرتے ہوئے ان پر حملہ بولا اور الزام لگایا کہ وہ اس طرح کے بیان سے شبیہ خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انٹونی نے کہاکہ یہ حکومت کہہ رہی ہے کہ اس کا سوداسستا ہے۔اگر ایسا ہے تو انہوں نے صرف 36 طیارے کیوں خریدے ہیں جبکہ فضائیہ کی فوری ضرورت 126 طیاروں کی ہے۔انہوں نے الزام لگایاکہ طیاروں اور ہتھیاروں کی ضرورت کا فیصلہ وزیر دفاع کی صدارت والی دفاع خریداری کونسل (ڈی ایس سی) کرتی ہے۔لیکن وزیر اعظم مودی نے پیرس جاکر 126 طیاروں کے سودے کو 36 طیاروں کے سودے میں تبدیل کر دیا۔وزیر اعظم نے خریداری کے عمل کی واضح طور پر خلاف ورزی کی ہے۔انٹونی نے کہاکہ وزیر دفاع کہہ رہی ہیں کہ ایچ اے ایل کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اتنی نہیں ہے کہ وہ 36 رافیل طیاروں کی تیاری کر سکے۔اس طرح کے بیان دے کر وہ پبلک سیکٹر کی بین الاقوامی سطح پر معروف کمپنی کی شبیہہ خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔یوپی اے سرکار کے وقت رافیل سودے پر روک لگائے جانے سے متعلق حکمراں فریق کے الزام پر انٹونی نے کہا کہ اس وقت ’لائف سائیکل کوسٹ‘ پر وزارت خزانہ کے کچھ سوالات تھے اور بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر سمیت کئی لیڈروں نے بھی اس پر اعتراض ظاہر کیاتھا جس وجہ سے سودے میں تاخیر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ فضائیہ نے 2000 میں 126طیاروں کی ضرورت بتائی تھی، لیکن اب اتنے ہوائی جہاز شاید 2030 تک دستیاب ہو پائیں کیونکہ اس حکومت نے رافیل 126 طیاروں کے سودے کو 36 طیاروں کا سودا کر دیا۔انٹونی نے جے پی سی کی جانچ کی مانگ دہراتے ہوئے کہاکہ حکومت آخر جے پی سی کی تحقیقات سے کیوں بھاگ رہی ہے؟ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر دفاع حقائق کو چھپانا چاہتے ہیں۔